حدیث نمبر: 8027
«يجمع الله الناس يوم القيامة فيقوم المؤمنون حين تزلف لهم الجنة فيأتون آدم فيقولون: يا أبانا! استفتح لنا الجنة فيقول: وهل أخرجكم من الجنة إلا خطيئة أبيكم آدم لست بصاحب ذلك اذهبوا إلى ابني إبراهيم خليل الله فيقول إبراهيم: لست بصاحب ذلك إنما كنت خليلا من وراء وراء اعمدوا إلى موسى الذي كلمه الله تكليما فيأتون موسى فيقول: لست بصاحب ذلك اذهبوا إلى عيسى كلمة الله وروحه فيقول عيسى لست بصاحب ذلك اذهبوا إلى محمد فيأتون محمدا فيقوم فيؤذن له وترسل الأمانة والرحم فتقومان جنبتي الصراط يمينا وشمالا فيمر أولكم كالبرق ثم كمر الريح ثم كمر الطير وشد الرجال تجري بهم أعمالهم ونبيكم قائم على الصراط يقول: يا رب سلم سلم حتى تعجز أعمال العباد وحتى يجيء الرجل فلا يستطيع السير إلا زحفا وفي حافتي الصراط كلاليب معلقة مأمورة تأخذ من أمرت بأخذه فمخدوش ناج ومكدوس في النار»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا، تو جب جنت مومنوں کے قریب کر دی جائے گی تو وہ سفارش کے لیے کھڑے ہوں گے۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے باپ! ہمارے لیے جنت کھلوا دیں۔ وہ کہیں گے: کیا تمہیں جنت سے تمہارے باپ آدم کی خطا کے سوا کسی اور چیز نے نہیں نکالا؟ میں اس کام کے قابل نہیں، تم میرے بیٹے ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ۔ ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: میں اس کام کے قابل نہیں، میں تو صرف دور کی دوستی رکھتا تھا، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے براہِ راست کلام کیا۔ تو وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو وہ کہیں گے: میں اس کام کے قابل نہیں، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ تو عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے: میں اس کام کے قابل نہیں، تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ تو وہ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے، تو وہ سفارش کے لیے کھڑے ہوں گے تو انہیں اجازت دی جائے گی۔ اور امانت اور رشتہ داری کو بھیجا جائے گا تو وہ دونوں پل صراط کے دائیں اور بائیں کھڑے ہو جائیں گی۔ تم میں سے پہلا گروہ بجلی کی طرح گزرے گا، پھر ہوا کی رفتار سے، پھر پرندے کی رفتار سے، پھر تیز دوڑنے والوں کی رفتار سے، ان کے اعمال انہیں لے کر دوڑیں گے۔ اور تمہارا نبی پل صراط پر کھڑا ہو کر کہتا ہو گا: اے رب! سلامتی دے، سلامتی دے۔ یہاں تک کہ بندوں کے اعمال کمزور پڑنے سے عاجز آ جائیں گے، اور کوئی آدمی آئے گا جو گھسٹتے ہوئے کے سوا چل ہی نہیں سکے گا۔ اور پل صراط کے دونوں کناروں پر لٹکے ہوئے آنکڑے ہوں گے، جنہیں حکم دیا گیا ہو گا کہ جسے پکڑنے کا حکم دیا جائے اسے پکڑ لیں، تو کوئی خراشیں کھا کر بچ جائے گا اور کوئی جہنم میں اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8027
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. المشكاة ٥٦٠٨، م ١/١٢٩ - ١٣٠.