حدیث نمبر: 7999
"يؤتى بالموت يوم القيامة فيوقف على الصراط فيقال: يا أهل الجنة! فيطلعون خائفين وجلين أن يخرجوا من مكانهم الذي هم فيه ثم يقال: يا أهل النار! فيطلعون مستبشرين فرحين أن يخرجوا من مكانهم الذي هم فيه فيقال: هل تعرفون هذا؟ فيقولون: نعم هذا الموت، فيؤمر به فيذبح على الصراط ثم يقال للفريقين كلاهما: خلود فيما تجدون لا موت فيها أبدا "
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موت کو قیامت کے دن لایا جائے گا، تو اسے پل صراط پر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ خوفزدہ اور ڈرے ہوئے ہو کر جھانکیں گے، کہیں انہیں ان کی موجودہ جگہ سے نکال نہ دیا جائے، پھر کہا جائے گا: اے جہنم والو! تو وہ خوش اور اس امید سے جھانکیں گے کہ شاید انہیں ان کی موجودہ جگہ سے نکال دیا جائے۔ پھر کہا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ تو اسے حکم دیا جائے گا اور اسے پل صراط پر ذبح کر دیا جائے گا، پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گا: اب جس حال میں تم ہو اسی میں ہمیشگی ہے، اس میں کبھی موت نہیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7999
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ك] عن أبي هريرة. شرح الطحاوية ٥٧٦.