حدیث نمبر: 7998
«يؤتى بالموت كأنه كبش أملح حتى يوقف على السور بين الجنة والنار فيقال: يا أهل الجنة! فيشرئبون ويقال: يا أهل النار! فيشرئبون فيقال: هل تعرفون هذا؟ فيقولون: نعم هذا الموت فيضجع ويذبح فلولا أن الله قضى لأهل الجنة الحياة والبقاء لماتوا فرحا ولولا أن الله قضى لأهل النار الحياة فيها لماتوا ترحا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا یہاں تک کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان دیوار پر کھڑا کر دیا جائے گا، تو کہا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے، اور کہا جائے گا: اے جہنم والو! تو وہ بھی گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے، پھر کہا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ پھر اسے لٹا کر ذبح کر دیا جائے گا۔ پس اگر اللہ نے جنت والوں کے لیے ہمیشہ کی زندگی مقرر نہ کی ہوتی تو وہ خوشی سے مر جاتے، اور اگر اللہ نے جہنم والوں کے لیے اس میں ہمیشہ کی زندگی مقرر نہ کی ہوتی تو وہ غم سے مر جاتے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7998
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي سعيد. الترغيب ٤/٢٧٨.