حدیث نمبر: 8000
«يؤتى بأنعم أهل الدنيا من أهل النار يوم القيامة فيصبغ في جهنم صبغة ثم يقال له: يا ابن آدم هل رأيت خيرا قط؟ هل مر بك نعيم قط؟ فيقول: لا والله يا رب ويؤتى بأشد الناس بؤسا في الدنيا من أهل الجنة فيصبغ في الجنة صبغة فيقال له: يا ابن آدم! هل رأيت بؤسا قط؟ هل مر بك شدة قط؟ فيقول: لا والله يا رب! ما مر بى بؤس قط ولا رأيت شدة قط»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا میں سب سے زیادہ آسائش والے جہنمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا تو اسے جہنم میں ایک بار ڈبویا جائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی؟ کیا تم پر کبھی کوئی نعمت گزری؟ وہ کہے گا: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب۔ اور دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف والے جنتی کو لایا جائے گا تو اسے جنت میں ایک بار ڈبویا جائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تم نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی؟ کیا تم پر کبھی کوئی سختی گزری؟ وہ کہے گا: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب! مجھ پر کبھی کوئی تکلیف نہیں گزری اور نہ میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8000
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن أنس. مختصر مسلم ١٩٨٦، الصحيحة ١١٦٧.