صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يؤتى بالرجل يوم القيامة من أهل الجنة فيقول له: يا ابن آدم! كيف وجدت منزلك؟ فيقول: أي رب! خير منزل فيقول: سل وتمن فيقول: يا رب ما اسأل ولا أتمنى إلا أن تردني إلى الدنيا فأقتل في سبيلك عشر مرار لما يرى من فضل الشهادة ويؤتى بالرجل من أهل النار فيقول له: يا ابن آدم! كيف وجدت منزلك؟ فيقول: أي رب! شر منزل فيقول له: أتفتدي منه بطلاع الأرض ذهبا؟ فيقول: أي رب! نعم فيقول: كذبت قد سألتك أقل من ذلك وأيسر فلم تفعل فيرد إلى النار»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت والوں میں سے ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا، تو اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے رب! بہترین ٹھکانہ۔ اللہ فرمائے گا: مانگ اور تمنا کر۔ وہ کہے گا: اے رب! میں کچھ نہیں مانگتا اور نہ کوئی تمنا کرتا ہوں سوائے اس کے کہ تو مجھے دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ میں تیری راہ میں دس بار قتل ہوں، شہادت کی فضیلت دیکھ کر۔ اور جہنم والوں میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا، تو اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے رب! بدترین ٹھکانہ۔ اللہ فرمائے گا: کیا تم زمین بھر سونا دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہو گے؟ وہ کہے گا: اے رب! ہاں۔ اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ کہا، میں نے تو تم سے اس سے بھی کم اور آسان چیز مانگی تھی، مگر تم نے نہیں کی، پس اسے جہنم میں واپس لوٹا دیا جائے گا۔“