صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يا أبا ذر! ألا أعلمك كلمات تقولهن تلحق من سبقك ولا يدركك إلا من أخذ بعملك؟ تكبر دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين وتسبح ثلاثا وثلاثين وتحمد ثلاثا وثلاثين وتختم بلا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير من قال ذلك غفرت له ذنوبه ولو كانت مثل زبد البحر»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے ابوذر! کیا میں تمہیں کچھ کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم کہو تو تم ان لوگوں کو جا ملو جو تم سے آگے نکل چکے ہیں، اور تم سے کوئی آگے نہ نکل سکے سوائے اس کے جو تمہارے جیسا عمل کرے؟ ہر نماز کے بعد تینتیس بار اللہ اکبر کہو، تینتیس بار سبحان اللہ کہو، تینتیس بار الحمد للہ کہو، اور اختتام «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) پر کرو۔ جو ایسا کہے اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“