حدیث نمبر: 7097
"والله لله أشد فرحا بتوبة عبده من رجل كان في سفر في فلاة من الأرض فأوى إلى ظل شجرة فنام تحتها واستيقظ فلم يجد راحلته فأتى شرفا فصعد عليه فلم ير شيئا ثم أتى آخر فأشرف فلم ير شيئا فقال: أرجع إلى مكاني الذي كنت فيه فأكون فيه حتى أموت فذهب فإذ براحلته تجر خطامها فالله أشد فرحا بتوبة عبده من هذا براحلته"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم! اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی ویران زمین میں سفر کر رہا ہو، وہ ایک درخت کے سائے میں پناہ لے کر اس کے نیچے سو جائے، پھر بیدار ہو تو اپنی سواری نہ پائے، وہ ایک بلند جگہ پر چڑھے تو کچھ نظر نہ آئے، پھر دوسری بلند جگہ پر چڑھ کر دیکھے تو کچھ نظر نہ آئے، تو وہ کہے: میں اپنی اسی جگہ واپس چلا جاتا ہوں جہاں تھا اور وہیں رہوں گا یہاں تک کہ مر جاؤں، پس وہ واپس جائے تو اچانک اس کی سواری اپنی نکیل گھسیٹتی ہوئی وہیں موجود ہو۔ پس اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ آدمی اپنی سواری پا کر خوش ہوا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن النعمان بن بشير.