صحیح الجامع الصغیر
حرف اللام— حرف لام
الأحاديث المبدوءة بحرف اللام باب: حرف لام سے شروع ہونے والی احادیث
«لما خلق الله آدم ونفخ فيه الروح عطس فقال: الحمد لله فحمد الله بإذنه فقال له ربه: يرحمك الله يا آدم! اذهب إلى أولئك الملائكة إلى ملأ منهم جلوس فقل: السلام عليكم قالوا: وعليك السلام ورحمة الله ثم رجع إلى ربه فقال: إن هذه تحيتك وتحية بنيك بينهم فقال الله له ويداه مقبوضتان: اختر أيهما شئت قال: اخترت يمين ربي وكلتا يدي ربي يمين مباركة ثم بسطها فإذا فيها آدم وذريته فقال أي رب! ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذريتك فإذا كل إنسان مكتوب عمره بين عينيه فإذا فيهم رجل أضوؤهم أو من أضوئهم قال: يا رب من هذا؟ قال: هذا ابنك داود وقد كتبت له عمر أربعين سنة قال يا رب زد في عمره قال: ذاك الذي كتبت له قال: أي رب فإني قد جعلت له من عمري ستين سنة قال: أنت وذاك ثم أسكن الجنة ما شاء الله ثم أهبط منها فكان آدم يعد لنفسه فأتاه ملك الموت فقال له آدم: قد تعجلت قد كتب لي ألف سنة قال بلى ولكنك جعلت لابنك داود ستين سنة فجحد فجحدت ذريته ونسي فنسيت ذريته فمن يومئذ أمر بالكتاب والشهود»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی، انہوں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ» (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)، تو انہوں نے اللہ کے حکم سے اس کی حمد کی۔ ان کے رب نے ان سے فرمایا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا آدَمُ» (اے آدم! تم پر اللہ رحم فرمائے)! جاؤ ان فرشتوں کے پاس جو ایک مجلس میں بیٹھے ہیں اور کہو: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» (تم پر سلامتی ہو)۔ انہوں نے کہا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» (اور تم پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو)۔ پھر آدم اپنے رب کی طرف واپس آئے تو اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں سلام کا طریقہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے، جبکہ اس کے دونوں ہاتھ بند تھے، آدم سے فرمایا: جو چاہو چن لو۔ آدم نے کہا: میں نے اپنے رب کا دایاں ہاتھ چن لیا، اور میرے رب کے دونوں ہاتھ بابرکت اور دائیں کی طرح ہیں۔ پھر اللہ نے اسے کھولا تو اس میں آدم اور ان کی اولاد موجود تھی۔ آدم نے پوچھا: اے رب! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تیری اولاد ہیں۔ اور ہر انسان کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی تھی، تو ان میں سے ایک آدمی سب سے زیادہ روشن لوگوں میں سے تھا۔ آدم نے پوچھا: اے رب! یہ کون ہے؟ فرمایا: یہ تیرا بیٹا داؤد ہے، اور میں نے اس کی عمر چالیس سال لکھی ہے۔ آدم نے کہا: اے رب! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ فرمایا: یہ وہی ہے جو اس کے لیے لکھا جا چکا ہے۔ آدم نے کہا: اے رب! تو میں نے اپنی عمر میں سے ساٹھ سال اسے دے دیے۔ فرمایا: تم اور تمہاری مرضی۔ پھر آدم کو جتنا اللہ نے چاہا جنت میں بسایا، پھر انہیں اس سے اتارا گیا۔ آدم اپنی عمر شمار کرتے رہتے تھے، پھر ملک الموت ان کے پاس آئے، آدم نے ان سے کہا: تم نے جلدی کر دی، میری عمر تو ہزار سال لکھی گئی تھی۔ فرشتے نے کہا: ہاں، لیکن تم نے اپنے بیٹے داؤد کو ساٹھ سال دے دیے تھے۔ تو آدم نے انکار کر دیا تو ان کی اولاد نے بھی انکار کرنا سیکھ لیا، اور وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھولنے والی ہو گئی، اور اسی دن سے لکھت اور گواہی کا حکم دیا گیا۔“