حدیث نمبر: 5136
"لقد سألتني عن عظيم وإنه ليسير على من يسره الله عليه تعبد الله لا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة المكتوبة وتؤتي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان وتحج البيت. ألا أدلك على أبواب الخير؟ الصوم جنة والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار وصلاة الرجل في جوف الليل. ألا أخبرك برأس الأمر وعموده وذروة سنامه؟ رأس الأمر الإسلام من أسلم سلم وعموده الصلاة وذروة سنامه الجهاد. ألا أخبرك بملاك ذلك كله؟ كف عليك هذا - وأشار إلى لسانه - قال: يا نبي الله! وإنا لمؤاخذون بما نتكلم به؟ قال: ثكلتك أمك يا معاذ! وهل يكب الناس في النار على وجوههم إلا حصائد ألسنتهم"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم نے مجھ سے ایک بڑی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے، اور یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ اسے آسان کر دے: تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ گناہ کو اسی طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور آدمی کا رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھنا بھی۔ کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کے ستون اور اس کی چوٹی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ دین کی اصل اسلام ہے، جس نے اسلام قبول کیا وہ سلامت ہو گیا، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔ کیا میں تمہیں ان سب چیزوں کی بنیاد کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اپنی اس چیز کو قابو میں رکھو - اور آپ ﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا ہم اپنی زبان سے کہی گئی باتوں پر بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں تجھ پر روئے، اے معاذ! لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں کوئی چیز نہیں گراتی سوائے ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصل کے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5136
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك هـ هب] عن معاذ زاد [طب هب] : (إنك لن تزال سالما ما سكت فإذا تكلمت كتب لك أو عليك) . إيمان ابن أبي شيبة ١و٢، الإرواء ٤١٣.