حدیث نمبر: 5135
«لقد رأيتني في الحجر وقريش تسألني عن مسراي فسألتني عن أشياء من بيت المقدس لم أثبتها فكربت كربا ما كربت مثله قط فرفعه الله لي أنظر إليه ما يسألوني عن شيء إلا أنبأتهم به وقد رأيتني في جماعة من الأنبياء فإذا موسى قائم يصلي فإذا رجل جعد ضرب كأنه من رجال شنوءة وإذا عيسى ابن مريم قائم يصلي أقرب الناس به شبها عروة ابن مسعود الثقفي وإذا إبراهيم قائم يصلي أشبه الناس به صاحبكم - يعني نفسه - فحانت الصلاة فأممتهم فلما فرغت من الصلاة قال قائل: يا محمد! هذا مالك صاحب النار فسلم عليه فالتفت إليه فبدأني بالسلام»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے اپنے آپ کو حطیم میں پایا جبکہ قریش مجھ سے میرے معراج کے سفر کے بارے میں پوچھ رہے تھے، تو انہوں نے بیت المقدس کے بارے میں کچھ ایسی چیزیں پوچھیں جو میں نے پہلے ٹھیک طرح یاد نہیں رکھی تھیں، تو مجھے ایسی گھبراہٹ ہوئی جیسی کبھی نہیں ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بیت المقدس کو ظاہر کر دیا، میں اسے دیکھنے لگا، وہ جو بھی چیز پوچھتے میں انہیں اس کی خبر دے دیتا۔ اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء کی ایک جماعت میں پایا: موسیٰ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، وہ گھنگریالے بالوں والے، سرخی مائل رنگت والے، گویا قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے تھے۔ عیسیٰ بن مریم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، ان سے سب سے زیادہ مشابہت عروہ بن مسعود ثقفی سے تھی۔ ابراہیم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، ان سے سب سے زیادہ مشابہت تمہارے ساتھی، یعنی خود میرے، ساتھ تھی۔ پھر نماز کا وقت آ گیا تو میں نے ان کی امامت کی، جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ایک کہنے والے نے کہا: اے محمد! یہ مالک ہیں، جہنم کے داروغہ، انہیں سلام کیجیے، میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے مجھ سے پہلے سلام کیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5135
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٨٠.