حدیث نمبر: 4461
"كان ملك فيمن كان قبلكم وكان له ساحر فلما كبر قال للملك: إني قد كبرت فابعث إلي غلاما أعلمه السحر فبعث إليه غلاما يعلمه فكان في طريقه إذا سلك راهب فقعد إليه وسمع كلامه، فأعجبه، فكان إذا أتى الساحر مر بالراهب وقعد إليه فإذا أتى الساحر ضربه فشكا ذلك إلى الراهب فقال: إذا جئت الساحر فقل: حبسني أهلي وإذا جئت أهلك فقل: حبسني الساحر، فبينما هوكذلك إذ أتى على دابة عظيمة قد حبست الناس فقال: اليوم أعلم الساحر أفضل أم الراهب؟ فأخذ حجرا فقال: اللهم إن كان أمر الراهب أحب إليك من أمر الساحر فاقتل هذه الدابة حتى يمضي الناس فرماها فقتلها ومضى الناس، فأتى الراهب فأخبره فقال له الراهب: أي بني أنت اليوم أفضل مني قد بلغ من أمرك ما أرى وإنك ستبتلى فلا تدل علي، وكان الغلام يبرئ الأكمه والأبرص ويدأوي الناس من سائر الأدواء فسمع جليس للملك كان قد عمي فأتاه بهدايا كثيرة فقال: ما هاهنا أجمع لك إن أنت شفيتني قال: إني لا أشفي أحد إنما يشفي الله عز وجل فإن آمنت بالله دعوت الله فشفاك فآمن بالله فشفاه الله، فأتى الملك فجلس إليه كما كان يجلس فقال له الملك: من رد عليك بصرك؟ قال: ربي قال: ولك رب غيري؟ قال: ربي وربك الله فأخذه فلم يزل يعذبه حتى دل على الغلام فجيء بالغلام فقال له الملك: أي بني قد بلغ من سحرك ما يبرئ الأكمه والأبرص وتفعل وتفعل! فقال: إني لا أشفي أحدا إنما يشفي الله عز وجل، فأخذه فلم يزل يعذبه حتى دل على الراهب فجيء بالراهب فقيل له: ارجع عن دينك فأبى فدعا بالمنشار فوضع المنشار على مفرق رأسه فشقه به حتى وقع شقاه ثم جيء بجليس الملك فقيل له: ارجع عن دينك فأبى فوضع المنشار في مفرق رأسه فشقه حتى وقع شقاه ثم جيء بالغلام فقيل له: ارجع عن دينك فأبى فدفعه إلى نفر من أصحابه فقال: اذهبوا به إلى جبل كذا وكذا فاصعدوا به الجبل فإذا بلغتم به ذروته فإن رجع عن دينه وإلا فاطرحوه، فذهبوا به فصعدوا به الجبل فقال: اللهم اكفنيهم بما شئت فرجف بهم الجبل فسقطوا وجاء يمشي إلى الملك فقال له الملك: ما فعل أصحابك؟ فقال: كفانيهم الله فدفعه إلى نفر من أصحابه فقال: اذهبوا به فاحملوه في قرقور فتوسطوا به البحر فإن رجع عن دينه وإلا فاقذفوه فذهبوا به فقال: اللهم اكفنيهم بما شئت فانكفأت بهم السفينة فغرقوا وجاء يمشي إلى الملك فقال له الملك: ما فعل أصحابك؟ فقال: كفانيهم الله، فقال للملك: إنك لست بقاتلي حتى تفعل ما آمرك به! قال: وما هو؟ قال: تجمع الناس في صعيد واحد وتصلبني على جذع ثم خذ سهما من كنانتي ثم ضع السهم في كبد القوس ثم قل: بسم الله رب الغلام ثم ارم فإنك إذا فعلت ذلك قتلتني، فجمع الناس في صعيد واحد وصلبه على جذع ثم أخذ سهما من كنانته ثم وضع السهم في كبد القوس ثم قال: بسم الله رب الغلام ثم رماه فوقع السهم في صدغه فوضع يده في صدغه موضع السهم فمات، فقال الناس: آمنا برب الغلام، آمنا برب الغلام آمنا برب الغلام فأتى الملك فقيل له: أرأيت ما كنت تحذر؟ قد والله نزل بك حذرك قد آمن الناس! فأمر بالأخدود بأفواه السكك فخدت وأضرم النيران وقال: من لم يرجع عن دينه فأقحموه فيها ففعلوا حتى جاءت امرأة ومعها صبي لها فتقاعست أن تقع فيها فقال لها الغلام: يا أمه اصبري فإنك على الحق "
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا جس کا ایک جادوگر تھا۔ جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا: میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیجیے تاکہ میں اسے جادو سکھاؤں۔ چنانچہ بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیج دیا تاکہ وہ اسے جادو سکھائے۔ اس لڑکے کے راستے میں ایک راہب رہتا تھا، وہ اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں سنتا، اسے یہ باتیں پسند آنے لگیں۔ چنانچہ جب بھی وہ جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں راہب کے پاس سے گزرتا اور اس کے پاس بیٹھ جاتا۔ جب وہ جادوگر کے پاس پہنچتا تو وہ اسے مارتا۔ اس نے یہ شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا: جب جادوگر کے پاس جاؤ تو کہو: مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا، اور جب گھر والوں کے پاس جاؤ تو کہو: مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔ وہ اسی حال میں تھا کہ اچانک ایک بہت بڑا جانور آیا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ اس نے کہا: آج میں جان لوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ تجھے جادوگر کے معاملے سے زیادہ محبوب ہے تو اس جانور کو مار ڈال تاکہ لوگ گزر سکیں۔ اس نے پتھر مارا اور جانور مر گیا اور لوگ گزر گئے۔ وہ راہب کے پاس آیا اور اسے بتایا تو راہب نے کہا: بیٹا! آج تم مجھ سے افضل ہو، تمہارا معاملہ اس مقام تک پہنچ چکا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں، اور تمہیں ضرور آزمایا جائے گا، پس میرا پتہ کسی کو نہ بتانا۔ اور وہ لڑکا مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو ٹھیک کر دیتا اور لوگوں کو دوسری بیماریوں سے بھی شفا دیتا تھا۔ بادشاہ کے ایک ندیم نے یہ سنا جو اندھا ہو چکا تھا، تو وہ بہت سے تحائف لے کر اس کے پاس آیا اور کہا: یہ سب کچھ تمہارا ہے اگر تم مجھے شفا دے دو۔ لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو صرف اللہ عزوجل دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ سے دعا کروں گا وہ تمہیں شفا دے گا۔ چنانچہ وہ اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ نے اسے شفا دے دی۔ پھر وہ بادشاہ کے پاس آیا اور اسی طرح اس کے پاس بیٹھا جیسے پہلے بیٹھا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا: تمہاری بینائی کس نے لوٹائی؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا: کیا میرے سوا تمہارا کوئی اور رب ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تمہارا رب اللہ ہے۔ چنانچہ بادشاہ نے اسے پکڑ لیا اور اسے عذاب دیتا رہا یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا پتہ بتا دیا۔ لڑکے کو بلایا گیا تو بادشاہ نے اس سے کہا: بیٹا! تمہارا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ تم مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفا دیتے ہو اور یہ یہ کرتے ہو! لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو صرف اللہ عزوجل دیتا ہے۔ چنانچہ بادشاہ نے اسے پکڑ لیا اور عذاب دیتا رہا یہاں تک کہ اس نے راہب کا پتہ بتا دیا۔ راہب کو بلایا گیا اور اس سے کہا گیا: اپنے دین سے پھر جاؤ۔ اس نے انکار کیا تو آرا منگوا کر اس کے سر کے بیچ میں رکھا گیا اور اسے چیر دیا گیا یہاں تک کہ اس کے دونوں ٹکڑے گر پڑے۔ پھر بادشاہ کے ندیم کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا: اپنے دین سے پھر جاؤ۔ اس نے بھی انکار کیا تو آرا اس کے سر کے بیچ میں رکھ کر اسے بھی چیر دیا گیا یہاں تک کہ اس کے دونوں ٹکڑے گر پڑے۔ پھر لڑکے کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا: اپنے دین سے پھر جاؤ۔ اس نے انکار کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کر کے کہا: اسے فلاں فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور پہاڑ پر چڑھاؤ، پھر جب چوٹی پر پہنچ جاؤ تو اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے (تو ٹھیک) ورنہ اسے نیچے پھینک دو۔ چنانچہ وہ اسے لے گئے اور پہاڑ پر چڑھایا تو لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔ پہاڑ ہل گیا اور وہ سب گر پڑے، اور وہ لڑکا چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا: تمہارے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا۔ بادشاہ نے اسے پھر اپنے کچھ اور ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا: اسے لے جاؤ اور کشتی میں سوار کر کے سمندر کے بیچ لے جاؤ، پھر اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے (تو ٹھیک) ورنہ اسے سمندر میں پھینک دو۔ چنانچہ وہ اسے لے گئے تو لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔ کشتی ان سمیت الٹ گئی اور وہ سب ڈوب گئے، اور وہ لڑکا چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا: تمہارے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا۔ پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکتے جب تک وہ نہ کرو جس کا میں تمہیں حکم دوں۔ بادشاہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ لڑکے نے کہا: تم لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرو اور مجھے ایک تنے پر سولی دے دو، پھر میرے ترکش سے ایک تیر لے کر کمان کے وسط میں رکھو، پھر کہو: اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر تیر چلاؤ۔ اگر تم نے ایسا کیا تو مجھے قتل کر سکو گے۔ چنانچہ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور اسے ایک تنے پر سولی دے دیا، پھر اپنے ترکش سے ایک تیر لیا، اسے کمان کے وسط میں رکھا اور کہا: اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر تیر چلایا تو وہ اس کی کنپٹی میں جا لگا۔ اس نے اپنا ہاتھ اس جگہ رکھا جہاں تیر لگا تھا اور مر گیا۔ تو لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ کے پاس آ کر اس سے کہا گیا: کیا آپ نے دیکھا جس بات سے آپ ڈرتے تھے؟ اللہ کی قسم! وہی چیز آپ پر نازل ہو گئی جس سے آپ ڈرتے تھے، لوگ ایمان لے آئے ہیں! تو بادشاہ نے راستوں کے سروں پر خندقیں کھدوائیں اور ان میں آگ جلوا دی اور کہا: جو اپنے دین سے نہ پھرے اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، یہاں تک کہ ایک عورت اپنے بچے کو لیے آئی تو وہ اس میں گرنے سے ہچکچائی، تو اس کے بچے نے اس سے کہا: اماں! صبر کرو، تم حق پر ہو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4461
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن صهيب. مختصر مسلم ٢٠٩٣.