حدیث نمبر: 4371
«قد دنت مني الجنة حتى لواجترأت عليها لجئتكم بقطاف من قطافها ودنت مني النار حتى قلت: أي رب وأنا معهم؟ فإذا امرأة تخدشها هرة قلت: ما شأن هذه؟ قالوا: حبستها حتى ماتت جوعا لا هي أطعمتها ولا أرسلتها تأكل من خشاش الأرض»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت مجھ سے اتنی قریب کر دی گئی کہ اگر میں اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کی جرات کرتا تو تمہارے پاس اس کے پھلوں میں سے ایک گچھا لے آتا، اور جہنم مجھ سے اتنی قریب کر دی گئی کہ میں نے کہا: اے رب! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ تو (اچانک) میں نے ایک عورت کو دیکھا جسے ایک بلی نوچ رہی تھی۔ میں نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ کہا گیا: اس نے اسے (بلی کو) قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، نہ اس نے اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4371
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أسماء بنت أبي بكر. جزء الكسوف.