حدیث نمبر: 4345
"قال الله تعالى: يا عبادي! إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته محرما بينكم فلا تظالموا يا عبادي! كلكم ضال إلا من هديته فاستهدوني أهدكم يا عبادي! كلكم جائع إلا من أطعمته فاستطعموني أطعمكم يا عبادي! كلكم عار إلا من كسوته فاستكسوني أكسكم يا عبادي! إنكم تخطئون بالليل والنهار وأنا أغفر الذنوب جميعا فاستغفروني أغفر لكم يا عبادي! إنكم لن تبلغوا ضري فتضروني ولن تبلغوا نفعي فتنفعوني يا عبادي! لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أتقى قلب رجل واحد منكم ما زاد ذلك في ملكي شيئا يا عبادي! لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أفجر قلب رجل واحد منكم ما نقص ذلك من ملكي شيئا يا عبادي! لوأن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم قاموا في صعيد واحد فسألوني فأعطيت كل إنسان مسألته ما نقص ذلك مما عندي إلا كما ينقص المخيط إذا أدخل البحر يا عبادي! إنما هي أعمالكم أحصيها لكم ثم أوفيكم إياها فمن وجد خيرا فليحمد الله ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ہے، پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، پس مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، پس مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں لباس دوں، پس مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہ بخشتا ہوں، پس مجھ سے بخشش مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم مجھے کبھی نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو، اور نہ ہی مجھے نفع پہنچانے کی طاقت رکھتے ہو کہ مجھے نفع پہنچا سکو۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور تمہارے انسان و جن سب تم میں سے کسی ایک شخص کے سب سے متقی دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں ہو گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور تمہارے انسان و جن سب تم میں سے کسی ایک شخص کے سب سے بدترین دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور تمہارے انسان و جن سب ایک ہی میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر انسان کو اس کی مانگی ہوئی چیز دے دوں تو اس سے میرے خزانے میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے اس میں کمی آتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کرتا ہوں، پھر میں تمہیں ان کا پورا بدلہ دوں گا، پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے، اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4345
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي ذر. مختصر مسلم ١٨٢٨: حم ٥/ ١٦٠، ١٥٤، ١٧٧.