حدیث نمبر: 4346
«قال رجل: لأتصدقن الليلة بصدقة فخرج بصدقته فوضعها في يد سارق فأصبحوا يتحدثون: تصدق الليلة على سارق فقال: اللهم لك الحمد على سارق! لأتصدقن الليلة بصدقة فخرج بصدقته فوضعها في يد زانية فأصبحوا يتحدثون: تصدق الليلة على زانية! فقال: اللهم لك الحمد على زانية! لأتصدقن الليلة بصدقة فخرج بصدقته فوضعها في يد غني فأصبحوا يتحدثون: تصدق الليلة على غني فقال: اللهم لك الحمد على سارق وعلى زانية وعلى غني فأتي فقيل له: أما صدقتك على سارق فلعله أن يستعف عن سرقته وأما الزانية فلعلها أن تستعف عن زناها وأما الغني فلعله أن يعتبر فينفق مما أعطاه الله»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک آدمی نے کہا: میں آج رات ضرور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے (انجانے میں) ایک چور کے ہاتھ میں تھما دیا۔ صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ! تیرا ہی شکر ہے، چور پر (صدقہ ہو گیا)! میں آج رات پھر ضرور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک زانیہ عورت کے ہاتھ میں تھما دیا۔ صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ! تیرا ہی شکر ہے، زانیہ پر (صدقہ ہو گیا)! میں آج رات پھر ضرور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک مالدار شخص کے ہاتھ میں تھما دیا۔ صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک مالدار کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ! تیرا ہی شکر ہے، چور پر، زانیہ پر اور مالدار پر (صدقہ ہو گیا)! پھر اس کے پاس (فرشتہ) آیا اور اس سے کہا گیا: رہا تیرا چور کو صدقہ دینا، تو شاید وہ اپنی چوری سے باز آ جائے، رہی زانیہ تو شاید وہ اپنی زناکاری سے باز آ جائے، اور رہا مالدار تو شاید وہ عبرت پکڑے اور اللہ نے جو کچھ اسے دیا ہے اس میں سے خرچ کرے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4346
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٥٤٧، تخريج مشكلة الفقر ٦.