حدیث نمبر: 4338
«قال الله تعالى: يا ابن آدم! إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان منك ولا أبالي يا ابن آدم! لوبلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي يا ابن آدم! لوأنك أتيتني بقراب الأرض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لأتيتك بقرابها مغفرة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تجھے بخشتا رہوں گا، تجھ سے جو کچھ بھی ہوا ہو، اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک بھی پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے بخشش مانگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر میرے پاس آئے، پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس اتنی ہی بخشش لے کر آؤں گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4338
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث الصحيحة ١٢٧، الروض النضير ٤٣٢، المشكاة ٤٣٣٦، الترغيب ٢/٢٦٨.