حدیث نمبر: 3887
"ضرب الله تعالى مثلا صراطا مستقيما وعلى جنبتي الصراط سوران فيهما أبواب مفتحة وعلى الأبواب ستور مرخاة وعلى باب الصراط داع يقول: يا أيها الناس! ادخلوا الصراط جميعا ولا تتعوجوا وداع يدعومن فوق الصراط فإذا أراد الإنسان أن يفتح شيئا من تلك الأبواب قال: ويحك لا تفتحه فإنك إن تفتحه تلجه فالصراط الإسلام والسوران حدود الله تعالى والأبواب المفتحة محارم الله تعالى وذلك الداعي على رأس الصراط كتاب الله والداعي من فوق واعظ الله في قلب كل مسلم"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی: ایک سیدھا راستہ ہے، اور اس راستے کے دونوں کناروں پر دو دیواریں ہیں، ان دیواروں میں کھلے دروازے ہیں، اور دروازوں پر لٹکے ہوئے پردے ہیں، اور راستے کے سرے پر ایک پکارنے والا کہتا ہے: اے لوگو! سب کے سب اس راستے میں داخل ہو جاؤ اور اس سے ٹیڑھے مت ہونا۔ اور ایک پکارنے والا راستے کے اوپر سے پکارتا ہے، پس جب انسان ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے: تیری خرابی ہو! اسے مت کھولنا، کیونکہ اگر تو نے اسے کھولا تو تُو اس میں داخل ہو جائے گا۔ پس وہ راستہ اسلام ہے، اور وہ دو دیواریں اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، اور وہ کھلے دروازے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں، اور راستے کے سرے پر پکارنے والا اللہ کی کتاب ہے، اور اوپر سے پکارنے والا ہر مسلمان کے دل میں اللہ کا نصیحت کرنے والا (ضمیر) ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الضاد / حدیث: 3887
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن النواس. المشكاة ١٩١