حدیث نمبر: 3516
«رفعت إلى سدرة المنتهى منتهاها في السماء السابعة نبقها مثل قلال هجر وورقها مثل آذان الفيلة فإذا أربعة أنهار نهران ظاهران ونهران باطنان فأما الظاهران: فالنيل والفرات وأما الباطنان: فنهران في الجنة وأتيت بثلاثة أقداح قدح فيه لبن وقدح فيه عسل وقدح فيه خمر فأخذت الذي فيه اللبن فشربت فقيل لي: أجبت الفطرة أنت وأمتك»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا جس کی انتہا ساتویں آسمان میں ہے، اس کی بیریاں ہجر کے (بڑے) مٹکوں جیسی اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں جیسے تھے، وہاں چار نہریں تھیں، دو ظاہری اور دو باطنی، ظاہری دو نہریں نیل اور فرات تھیں، اور باطنی دو نہریں جنت کی دو نہریں تھیں۔ اور میرے پاس تین برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا، ایک میں شہد تھا اور ایک میں شراب تھی، میں نے دودھ والا برتن لے کر پی لیا، تو مجھ سے کہا گیا: تم نے فطرت کو پا لیا، تم اور تمہاری امت۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3516
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أنس. الصحيحة ١١٢.