حدیث نمبر: 3443
«الذهب بالذهب تبره وعينه والفضة بالفضة تبرها وعينها والبر بالبر مدين بمدين والشعير بالشعير مدين بمدين والتمر بالتمر مدين بمدين والملح بالملح مدين بمدين فمن زاد أو ازداد فقد أربى ولا بأس ببيع الذهب بالفضة والفضة أكثرهما يدا بيد وأما نسيئة فلا ولا بأس ببيع البر بالشعير والشعير أكثرهما يدا بيد وأما نسيئة فلا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سونا سونے کے بدلے، خواہ ڈلی کی شکل میں ہو یا سکے کی شکل میں، اور چاندی چاندی کے بدلے، خواہ ڈلی کی شکل میں ہو یا سکے کی شکل میں، اور گندم گندم کے بدلے، ایک مد کے بدلے ایک مد، اور جو جو کے بدلے، ایک مد کے بدلے ایک مد، اور کھجور کھجور کے بدلے، ایک مد کے بدلے ایک مد، اور نمک نمک کے بدلے، ایک مد کے بدلے ایک مد، پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود کھایا۔ سونے کو چاندی کے بدلے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ چاندی زیادہ ہو، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ (نقد) ہو، ادھار جائز نہیں۔ اور گندم کو جو کے بدلے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ جو زیادہ ہو، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ (نقد) ہو، ادھار جائز نہیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الذال / حدیث: 3443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن عبادة بن الصامت. الإرواء ١٣٣٩.