حدیث نمبر: 3074
«ثلاثة يحبهم الله وثلاثة يشنؤهم الله: الرجل يلقى العدو في فئة فينصب لهم نحره حتى يقتل أو يفتح لأصحابه والقوم يسافرون فيطول سراهم حتى يحبوا أن يمسوا الأرض فينزلون فيتنحى أحدهم فيصلي حتى يوقظهم لرحيلهم والرجل يكون له الجار يؤذيه جاره فيصبر على أذاه حتى يفرق بينهما موت أو ظعن والذين يشنؤهم الله: التاجر الحلاف والفقير المختال; والبخيل المنان»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تین لوگوں سے اللہ محبت کرتا ہے اور تین لوگوں سے اللہ نفرت کرتا ہے۔ (جن سے محبت کرتا ہے وہ ہیں:) وہ آدمی جو دشمن کا کسی جماعت کے ساتھ سامنا کرے اور اپنا سینہ ان کے سامنے ڈال دے یہاں تک کہ قتل ہو جائے یا اپنے ساتھیوں کے لیے فتح حاصل کرے، اور وہ قافلہ جو سفر کرے اور رات کا سفر لمبا ہو جائے یہاں تک کہ وہ زمین کو چھونا پسند کرنے لگیں تو وہ اترتے ہیں اور ان میں سے ایک الگ ہو کر نماز پڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ روانگی کے لیے انہیں جگا دیتا ہے، اور وہ آدمی جس کا پڑوسی اسے تکلیف دیتا ہو مگر وہ اس کی تکلیف پر صبر کرتا رہے یہاں تک کہ موت یا نقل مکانی ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دے۔ اور جن سے اللہ نفرت کرتا ہے وہ ہیں: کثرت سے قسمیں کھانے والا تاجر، اکڑ کر چلنے والا مغرور فقیر، اور احسان جتلانے والا بخیل۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الثاء / حدیث: 3074
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي ذر. المشكاة ١٩٢٢: ت، ك، ابن المبارك، ابن أبي شيبة، ابن نصر، الطحاوي.