حدیث نمبر: 3
«آخر من يحشر راعيان من مزينة يريدان المدينة ينعقان بغنمهما فيجدانها وحشا حتى إذا بلغا ثنية الوداع خرا على وجوههما»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے آخر میں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے (میدانِ محشر کی طرف) ہانکے جائیں گے، وہ اپنی بکریوں کو آواز دیتے ہوئے مدینہ کا ارادہ کریں گے لیکن وہ اسے بالکل سنسان پائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ ثنیۃ الوداع کے مقام پر پہنچیں گے تو اپنے چہروں کے بل گر پڑیں گے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 3
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٦٨٣.