حدیث نمبر: 4
"آخر من يدخل الجنة رجل يمشي على الصراط فهو يمشي مرة ويكبو مرة وتسفعه النار مرة, فإذا جاوزها التفت إليها فقال: تبارك الذي نجاني منك, لقد أعطاني الله شيئا ما أعطاه أحدا من الأولين والآخرين! فترفع له شجرة فيقول أي رب أدنني من هذه الشجرة فلأستظل بظلها وأشرب من مائها فيقول الله يا ابن آدم لعلي إن أعطيتكها سألتني غيرها؟ فيقول: لا يا رب ويعاهده أن لا يسأله غيرها وربه يعذره؛ لأنه يرى ما لا صبر له عليه فيدنيه منها فيستظل بظلها ويشرب من مائها, ثم ترفع له شجرة أخرى هي أحسن من الأولى, فيقول: أي رب أدنني من هذه لأشرب من مائها وأستظل بظلها لا أسألك غيرها, فيقول يا ابن آدم ألم تعاهدني ألا تسألني غيرها؟ فيقول لعلي إن أدنيتك منها تسألني غيرها؟ فيعاهده أن لا يسأله غيرها وربه يعذره لأنه يرى ما لا صبر له عليه فيدنيه منها فيستظل بظلها ويشرب من مائها, ثم ترفع له شجرة عند باب الجنة وهي أحسن من الأوليين, فيقول أي رب أدنني من هذه فلأستظل بظلها وأشرب من مائها لا أسألك غيرها فيقول: يا ابن آدم ألم تعاهدني أن لا تسألني غيرها؟ قال: بلى يا رب أدنني من هذه لا أسألك غيرها وربه يعذره لأنه يرى ما لا صبر له عليه فيدنيه منها فإذا أدناه منها سمع أصوات أهل الجنة فيقول: أي رب أدخلنيها فيقول: يا ابن آدم ما يعريني منك؟ ١ أيرضيك أن أعطيك الدنيا ومثلها معها؟ فيقول: أي رب أتستهزئ مني وأنت رب العالمين؟ فيقول: إني لا أستهزئ منك ولكني على ما أشاء قادر"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا وہ شخص ہوگا جو پل صراط پر اس طرح چلے گا کہ کبھی چل پڑے گا، کبھی منہ کے بل گرے گا اور کبھی آگ اسے جھلسائے گی، پس جب وہ اس (پل صراط) کو عبور کر لے گا تو مڑ کر اس (آگ) کی طرف دیکھے گا اور کہے گا: بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات عطا فرمائی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی نعمت عطا فرمائی ہے جو اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی کو نہیں دی۔ پھر اس کے سامنے ایک درخت لایا جائے گا تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں آرام کروں اور اس کا پانی پیوں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! اگر میں تجھے یہ دے دوں تو کیا تو مجھ سے کسی اور چیز کا سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! اور وہ اللہ سے پختہ عہد کرے گا کہ وہ اس کے سوا کوئی اور چیز نہیں مانگے گا۔ اور اس کا رب اسے معذور سمجھے گا (یعنی اس کی بے صبری پر اسے معاف رکھے گا) کیونکہ وہ شخص ایک ایسی چیز دیکھے گا جس پر وہ صبر نہیں کر سکے گا۔ چنانچہ اللہ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا، پس وہ اس کے سائے میں آرام کرے گا اور اس کا پانی پیے گا۔ پھر اس کے سامنے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا جو پہلے والے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 4
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ابن مسعود. مختصر مسلم ٨٨.