حدیث نمبر: 2995
«تكون هدنة على دخن قلوب لا تعود على ما كانت عليه ثم تكون دعاة الضلالة فإن رأيت يومئذ خليفة الله في الأرض فالزمه وإن نهك جسمك وأخذ مالك وإن لم تره فاضرب في الأرض ولو أن تموت وأنت عاض على جذل شجرة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صلح ہو گی مگر دلوں میں کدورت ہو گی جو پہلی حالت پر نہیں لوٹے گی، پھر گمراہی کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، پس اگر تم اس دن اللہ کا خلیفہ زمین پر پاؤ تو اسے لازم پکڑ لو، خواہ وہ تمہارا جسم گھلا دے اور تمہارا مال لے لے، اور اگر تم اسے نہ پاؤ تو زمین میں نکل جاؤ، خواہ تمہیں اسی حال میں موت آ جائے کہ تم درخت کا تنا کاٹ رہے ہو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2995
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د] عن حذيفة. الصحيحة ١٧٩١.