حدیث نمبر: 2971
«تفتح أبواب السماء نصف الليل فينادي مناد: هل من داع فيستجاب له؟ هل من سائل فيعطى؟ هل من مكروب فيفرج عنه؟ فلا يبقى مسلم يدعو بدعوة إلا استجاب الله تعالى له إلا زانية تسعى بفرجها أو عشارا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدھی رات کو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ایک پکارنے والا پکارتا ہے: کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے؟ کوئی مصیبت زدہ ہے کہ اس کی مصیبت دور کی جائے؟ پس کوئی مسلمان ایسا نہیں ہوتا جو دعا مانگے مگر اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرما لیتا ہے، سوائے اس زانیہ عورت کے جو اپنی شرمگاہ کی کمائی کے ذریعے کوشش کرتی ہو، یا اس ٹیکس وصول کرنے والے کے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2971
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] ١ عن عثمان بن أبي العاص. الصحيحة ١٠٧٣.