حدیث نمبر: 2955
«تعالوا بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تقتلوا أولادكم ولا تأتوا ببهتان تفترونه بين أيديكم وأرجلكم ولا تعصوني في معروف فمن وفى منكم فأجره على الله ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب به في الدنيا فهو له كفارة ومن أصاب من ذلك شيئا فستره الله فأمره إلى الله إن شاء عاقبه وأن شاء عفا عنه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آؤ، مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، اپنے ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہیں لاؤ گے، اور کسی نیک بات میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ پس تم میں سے جو اسے پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، اور جو ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل جائے تو وہ اس کے لیے کفارہ بن جائے گی، اور جو ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کرے اور اللہ اسے چھپا لے تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عبادة بن الصامت.