حدیث نمبر: 2873
"بينما رجل يمشي بطريق اشتد عليه العطش
فوجد بئرا فنزل فيها فشرب منها ثم خرج فإذا هو بكلب يلهث يأكل الثرى من العطش فقال: لقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذي بلغ بي فنزل البئر فملأ خفه ماء ثم أمسك بفيه ثم رقي فسقى الكلب فشكر الله فغفر له في كل ذات كبد رطبة أجر"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک شخص کسی راستے پر چل رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی۔ اسے ایک کنواں ملا تو وہ اس میں اترا اور پانی پی کر باہر نکلا۔ اچانک اس نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا اور گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے دل میں کہا کہ اس کتے کو بھی پیاس کی ویسی ہی شدت لاحق ہے جیسی مجھے تھی۔ چنانچہ وہ دوبارہ کنویں میں اترا، اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھرا، پھر اسے اپنے منہ سے پکڑ کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔ (یاد رکھو!) ہر تر جگر رکھنے والے (یعنی ہر جاندار) کے ساتھ نیکی کرنے میں اجر و ثواب ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2873
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٥٠٥، الصحيحة ٢٩.