حدیث نمبر: 2867
«بينما أنا نائم إذا زمرة حتى إذا عرفتهم خرج رجل من بيني وبينهم فقال: هلم قلت: أين؟ قال: إلى النار والله قلت: ما شأنهم؟ قال: إنهم ارتدوا بعدك على أدبارهم القهقرى ثم إذا زمرة حتى إذا عرفتهم خرج رجل من بيني وبينهم فقال: هلم قلت: أين؟ قال: إلى النار قلت: ما شأنهم؟ قال: إنهم ارتدوا بعدك على أدبارهم القهقرى فلا أراه يخلص منهم إلا مثل همل النعم»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں سو رہا تھا کہ اچانک ایک جماعت نظر آئی، جب میں نے انہیں پہچان لیا تو میرے اور ان کے درمیان سے ایک آدمی نکلا اور کہا: آ جاؤ۔ میں نے پوچھا: کہاں؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! آگ کی طرف۔ میں نے پوچھا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: یہ تمہارے بعد الٹے پاؤں پھر گئے۔ پھر اچانک ایک اور جماعت نظر آئی، جب میں نے انہیں پہچان لیا تو میرے اور ان کے درمیان سے ایک آدمی نکلا اور کہا: آ جاؤ۔ میں نے پوچھا: کہاں؟ اس نے کہا: آگ کی طرف۔ میں نے پوچھا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: یہ تمہارے بعد الٹے پاؤں پھر گئے۔ پس میرا خیال ہے کہ ان میں سے صرف اتنے ہی بچیں گے جتنے چرنے کے لیے چھوڑے گئے آوارہ جانوروں میں سے بچ جاتے ہیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2867
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة.