صحیح الجامع الصغیر
حرف الباء— حرف با
الأحاديث المبدوءة بحرف الباء باب: حرف با سے شروع ہونے والی احادیث
"بينما أنا في الحطيم مضطجعا إذ أتاني آت فقد ما بين هذه إلى هذه فاستخرج قلبي ثم أتيت بطست من ذهب مملوءة إيمانا فغسل قلبي بماء زمزم ثم حشي ثم أعيد ثم أتيت بدابة دون البغل وفوق الحمار أبيض يقال له البراق يضع خطوه عند أقصى طرفه فحملت عليه فانطلق بي جبريل حتى أتى السماء الدنيا فاستفتح قيل من هذا؟ قال: جبريل قي: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء ففتح فلما خلصت فإذا فيها آدم فقال: هذا أبوك آدم فسلم عليه فسلمت عليه فرد السلام ثم قال: مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح; ثم صعد بي حتى أتى السماء الثانية فاستفتح فقيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل وقد أرسل إليه؟ قال: نعم قيل مرحبا به فنعم المجيء جاء ففتح فلما خلصت إذا بيحيى وعيسى وهما ابنا الخالة قال: هذا يحيى وعيسى فسلم عليهما فسلمت فردا ثم قالا: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح; ثم صعد بي إلى السماء الثالثة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء ففتح فلما خلصت إذا يوسف قال: هذا يوسف فسلم عليه فسلمت عليه فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح; ثم صعد بي حتى أتى السماء الرابعة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء ففتح فلما خلصت إذا إدريس قال: هذا إدريس فسلم عليه فسلمت فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح;
ثم صعد بي إلى السماء الخامسة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء فلما خلصت إذا هارون قال: هذا هارون فسلم عليه فسلمت عليه فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح; ثم صعد بي إلى السماء السادسة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء فلما خلصت فإذا موسى قال: هذا موسى فسلم عليه فسلمت عليه فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح فلما تجاوزت بكى قيل له: ما يبكيك؟ قال: أبكي لأن غلاما بعث بعدي يدخل الجنة من أمته أكثر ممن يدخل من أمتي; ثم صعد بي إلى السماء السابعة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: نعم قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء فلما خلصت إذا إبراهيم قال: هذا أبوك إبراهيم فسلم عليه فسلمت عليه فرد السلام فقال: مرحبا بالابن الصالح والنبي الصالح; ثم رفعت لي سدرة المنتهى فإذا نبقها مثل قلال هجر وإذا ورقها مثل آذان الفيلة قال: هذه سدرة المنتهى وإذا أربعة أنهار نهران باطنان ونهران ظاهران قلت: ما هذان يا جبريل؟ قال: أما الباطنان فنهران في الجنة وأما الظاهران فالنيل والفرات ثم رفع لي البيت المعمور فقلت: يا جبريل! ما هذا؟ قال: هذا البيت المعمور يدخله كل يوم سبعون ألف ملك إذا خرجوا منه لم يعودوا
إليه آخر ما عليهم ثم أتيت بإناء من خمر وإناء من لبن وإناء من عسل فأخذت اللبن فقال: هي الفطرة التي أنت عليها وأمتك; ثم فرض علي خمسون صلاة كل يوم فرجعت فمررت على موسى فقال: بم أمرت؟ قلت: أمرت بخمسين صلاة كل يوم قال: إن أمتك لا تستطيع خمسين صلاة كل يوم وإني والله قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة فارجع إلى ربك فسله التخفيف لأمتك فرجعت فوضع عني عشرا فرجعت إلى موسى فقال مثله فرجعت فوضع عني عشرا فرجعت إلى موسى فقال مثله فرجعت فوضع عني عشرا فرجعت إلى موسى فقال مثله فرجعت فوضع عني عشرا فأمرت بعشر صلوات كل يوم فقال مثله فرجعت فأمرت بخمس صلوات كل يوم فرجعت إلى موسى فقال: بم أمرت؟ قلت: أمرت بخمس صلوات كل يوم قال: إن أمتك لا تستطيع خمس صلوات كل يوم وإني قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة فارجع إلى ربك فسله التخفيف لأمتك قلت: سألت ربي حتى استحييت منه ولكن أرضى وأسلم فلما جاوزت نادانى مناد أمضيت فريضتي وخففت عن عبادي"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا کہ اچانک میرے پاس ایک آنے والا (فرشتہ) آیا، اس نے یہاں سے لے کر یہاں تک (یعنی حلق سے پیڑو تک) چیرا، پھر میرا دل نکالا۔ پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا، میرے دل کو آبِ زمزم سے دھویا گیا، پھر اسے (ایمان و حکمت سے) بھر کر واپس اسی جگہ رکھ دیا گیا۔ پھر میرے پاس خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی ایک سفید رنگ کی سواری لائی گئی جسے براق کہا جاتا تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی تھی۔ مجھے اس پر سوار کیا گیا۔ پھر جبریل مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ آسمانِ دنیا پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ کہا گیا: انہیں خوش آمدید، ان کا آنا کتنا مبارک ہے۔ پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر گیا تو وہاں آدم (علیہ السلام) تھے۔ جبریل نے کہا: یہ آپ کے والد آدم ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید۔ پھر جبریل مجھے لے کر اوپر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ کہا گیا: انہیں خوش آمدید، ان کا آنا کتنا مبارک ہے۔ پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر گیا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) تھے اور وہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبریل نے کہا: یہ یحییٰ اور عیسیٰ ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا، تو دونوں نے جواب دیا اور فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبریل مجھے لے کر تیسرے آسمان کی طرف چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ کہا گیا: انہیں خوش آمدید، ان کا آنا کتنا مبارک ہے۔ پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر گیا تو وہاں یوسف (علیہ السلام) تھے۔ جبریل نے کہا: یہ یوسف ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر وہ مجھے چوتھے آسمان تک لے گئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ کہا گیا: انہیں خوش آمدید، ان کا آنا کتنا مبارک ہے۔ پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر گیا تو وہاں ادریس (علیہ السلام) تھے۔ جبریل نے کہا: یہ ادریس ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا، پھر فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر وہ مجھے لے کر پانچویں آسمان کی طرف چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ کہا گیا: انہیں خوش آمدید، ان کا آنا کتنا مبارک ہے۔ جب میں اندر گیا تو وہاں ہارون (علیہ السلام) تھے۔ جبریل نے کہا: یہ ہارون ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا، پھر فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر وہ مجھے چھٹے آسمان کی طرف لے گئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ کہا گیا: انہیں خوش آمدید، ان کا آنا کتنا مبارک ہے۔ جب میں اندر گیا تو وہاں موسیٰ (علیہ السلام) تھے۔ جبریل نے کہا: یہ موسیٰ ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا، پھر فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ جب میں آگے بڑھنے لگا تو وہ رونے لگے۔ ان سے پوچھا گیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں اس لیے رو رہا ہوں کہ ایک لڑکا جو میرے بعد مبعوث ہوا، اس کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر جبریل مجھے لے کر ساتویں آسمان کی طرف چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ کہا گیا: انہیں خوش آمدید، ان کا آنا کتنا مبارک ہے۔ جب میں اندر گیا تو وہاں ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔ جبریل نے کہا: یہ آپ کے والد ابراہیم ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: نیک بیٹے اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کو ظاہر کیا گیا، اس کے بیر ہجر مقام کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں جیسے تھے۔ جبریل نے کہا: یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ وہاں چار نہریں تھیں، دو باطنی نہریں اور دو ظاہری نہریں۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: باطنی نہریں تو جنت کی دو نہریں ہیں، اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور لایا گیا۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بیت المعمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، جب وہ اس میں سے نکل جاتے ہیں تو پھر ان کی دوبارہ کبھی باری نہیں آتی۔ پھر میرے پاس ایک برتن شراب کا، ایک برتن دودھ کا اور ایک برتن شہد کا لایا گیا۔ میں نے دودھ لے لیا۔ تو انہوں نے کہا: یہی وہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت قائم ہے۔ پھر مجھ پر روزانہ پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں واپس لوٹا اور میرا گزر موسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا۔ انہوں نے پوچھا: آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے روزانہ پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت روزانہ پچاس نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی، اور اللہ کی قسم! میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنی اسرائیل کے ساتھ سخت تجربات کر چکا ہوں، لہٰذا آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کیجیے۔ چنانچہ میں واپس گیا تو اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں۔ میں موسیٰ کے پاس واپس آیا تو انہوں نے پھر وہی بات کہی۔ میں پھر واپس گیا تو اللہ تعالیٰ نے مزید دس نمازیں کم کر دیں۔ میں موسیٰ کے پاس واپس آیا تو انہوں نے پھر وہی بات کہی۔ میں پھر واپس گیا تو مزید دس کم کر دی گئیں۔ میں موسیٰ کے پاس واپس آیا تو انہوں نے پھر وہی بات کہی۔ میں پھر واپس گیا تو مزید دس کم کر دی گئیں۔ تب مجھے روزانہ دس نمازوں کا حکم دیا گیا۔ موسیٰ نے پھر وہی بات کہی۔ چنانچہ میں پھر واپس گیا تو مجھے روزانہ پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا۔ میں موسیٰ کے پاس لوٹ کر آیا تو انہوں نے پوچھا: آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے روزانہ پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت روزانہ پانچ نمازوں کی بھی طاقت نہیں رکھتی، اور میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنی اسرائیل کے ساتھ سخت تجربات کر چکا ہوں، لہٰذا آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کیجیے۔ میں نے کہا: میں نے اپنے رب سے اتنی بار سوال کیا ہے کہ اب مجھے اس سے حیا آتی ہے، بلکہ اب میں راضی ہوں اور سرِ تسلیم خم کرتا ہوں۔ پھر جب میں آگے بڑھا تو ایک منادی نے آواز دی: میں نے اپنا فریضہ نافذ کر دیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی۔“