حدیث نمبر: 2865
«بينما أنا على بئر أنزع منها إذ جاء أبو بكر وعمر فأخذ أبو بكر الدلو فنزع ذنوبا أو ذنوبين وفي نزعه ضعف فغفر الله له ثم أخذها ابن الخطاب من يد أبي بكر فاستحالت في يده غربا فلم أر عبقريا من الناس يفري فريه حتى ضرب الناس بعطن»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں ایک کنویں پر کھڑا اس سے پانی نکال رہا تھا کہ ابو بکر اور عمر آ گئے۔ ابو بکر نے ڈول پکڑا اور ایک یا دو ڈول کھینچے، اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر ابن خطاب نے وہ ڈول ابو بکر کے ہاتھ سے لے لیا، تو وہ ڈول ان کے ہاتھ میں جا کر ایک بہت بڑے چمڑے کے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے لوگوں میں کوئی ایسا زبردست شخص نہیں دیکھا جو ان کی طرح مضبوطی سے کام کر سکے، یہاں تک کہ لوگوں نے (اپنے جانوروں کو پانی پلا کر) ان کے باڑوں میں بٹھا دیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2865
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن عمر.