حدیث نمبر: 2864
«بينا رجل بفلاة من الأرض فسمع صوتا في سحابة يقول: اسق حديقة فلان فتنحى ذلك السحاب فأفرغ ماءه في حرة فإذا شرجة من تلك الشراج قد استوعبت ذلك الماء كله فتتبع الماء فإذا رجل قائم في حديقته يحول الماء بمسحاته فقال له: يا عبد الله ما اسمك؟ قال: فلان للاسم الذي سمع في السحابة فقال له: يا عبد الله لم تسألني عن اسمي؟ قال: إني سمعت صوتا في السحاب الذي هذا ماؤه يقول: اسق حديقة فلان لاسمك فما تصنع فيها؟ قال: أما إذ قلت هذا فإني أنظر إلى ما يخرج منها فأتصدق بثلثه وآكل أنا وعيالي ثلثا وأرد فيها ثلثا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک شخص کسی چٹیل میدان میں تھا کہ اس نے ایک بادل میں سے ایک آواز سنی کہ فلاں شخص کے باغ کو پانی پلاؤ۔ چنانچہ وہ بادل ایک طرف ہٹا اور اس نے اپنا سارا پانی ایک پتھریلی زمین پر برسا دیا۔ وہاں پانی کی گزرگاہوں میں سے ایک نالی نے وہ سارا پانی اپنے اندر سمیٹ لیا۔ وہ شخص اس پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا، تو اس نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا ہے اور اپنے پھاوڑے سے پانی کا رخ موڑ رہا ہے۔ اس شخص نے اس سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتایا جو اس نے بادل میں سنا تھا۔ پھر باغ والے نے اس سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے! تم مجھ سے میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے اس بادل میں، جس کا یہ پانی ہے، ایک آواز سنی تھی جو کہہ رہی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو پانی پلاؤ، اور اس نے تمہارا نام لیا تھا۔ تو تم اس باغ میں ایسا کیا کرتے ہو؟ باغ والے نے کہا کہ جب تم نے یہ بات کہہ دی ہے تو سن لو کہ میں اس باغ کی پیداوار کو دیکھتا ہوں، پھر اس کا ایک تہائی حصہ صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے بال بچے کھاتے ہیں، اور باقی ایک تہائی اسی باغ میں (بطور لاگت) واپس لگا دیتا ہوں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2864
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٥٣٤، الصحيحة ١١٩٧: الطيالسي، ابن منده.