حدیث نمبر: 2643
«ألا إني أوتيت الكتاب ومثله معه ألا يوشك رجل شبعان على أريكته يقول: عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه ألا لا يحل لكم لحم الحمار الأهلي ولا كل ذي ناب من السبع ولا لقطة معاهد إلا أن يستغني عنها صاحبها ومن نزل بقوم فعليهم أن يقروه فإن لم يقروه فله أن يغصبهم بمثل قراه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی اور چیز (حکمت و سنت) بھی دی گئی ہے۔ خبردار!قریب ہے کہ پیٹ بھر کر اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کوئی شخص یہ کہے: تم اس قرآن کو لازم پکڑو، پس تم اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو حرام پاؤ اسے حرام جانو۔ (سن لو!) بلاشبہ تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں ہے، اور نہ ہی درندوں میں سے ہر نوکیلے دانت والے جانور کا گوشت حلال ہے، اور نہ ہی کسی ذمی کا گری پڑی چیز (لقطہ) حلال ہے، سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے بے پروا ہو جائے۔ اور جو شخص کسی قوم کے پاس مہمان بنے تو ان پر لازم ہے کہ اس کی مہمانی کریں، اور اگر وہ اس کی مہمانی نہ کریں تو مہمان کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کی مہمانی کے بقدر ان سے زبردستی وصول کر لے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن المقدام بن معد يكرب. المشكاة ١٦٣.