حدیث نمبر: 2500
«إني لكم فرط على الحوض فإياي لا يأتين أحدكم فيذب عني كما يذب البعير الضال فأقول: فيم هذا؟ فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك فأقول: سحقا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رو (تم سے پہلے پہنچنے والا) ہوں گا، پس تم میں سے کوئی شخص میرے پاس اس حال میں ہرگز نہ آئے کہ اسے مجھ سے اس طرح ہنکا کر دور کیا جا رہا ہو جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو ہنکایا جاتا ہے۔ تو میں کہوں گا: یہ کیا ماجرا ہے؟ تو مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی بدعات گھڑ لی تھیں۔ تو میں کہوں گا: دوری ہو، دوری ہو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2500
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أم سلمة.