صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن موسى كان رجلا حييا ستيرا لا يرى من جلده شيء استحياء منه فآذاه من آذاه من بني إسرائيل فقالوا: ما استتر هذا التستر إلا من عيب بجلده إما برص وإما أدرة وإما آفة وإن الله عز وجل أراد أن يبرئه مما قالوا فخلا يوما وحده فوضع ثيابه على الحجر ثم اغتسل فلما فرغ أقبل إلى ثيابه ليأخذها وإن الحجر عدا بثوبه فأخذ موسى عصاه وطلب الحجر فجعل يقول: ثوبي حجر ثوبي حجر! حتى انتهى إلى ملأ من بني إسرائيل فرأوه عريانا أحسن ما خلق الله وبرأه مما يقولون وقام الحجر فأخذ ثوبه فلبسه وطفق بالحجر ضربا بعصاه فوالله إن بالحجر لندبا من أثر ضربه ثلاثا أو أربعا أو خمسا فذلك قوله تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيها} »(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ موسیٰ (علیہ السلام) بہت حیا والے اور پردہ پوش انسان تھے، حیا کی وجہ سے ان کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ پس بنی اسرائیل میں سے جنہیں انہیں ایذا دینی تھی، انہوں نے ایذا دی اور کہنے لگے: یہ اتنی پردہ پوشی صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے جسم میں کوئی عیب ہے، یا تو برص (سفید داغ) ہے یا آنت اترنے کی بیماری ہے یا کوئی اور آفت ہے۔ اور بلاشبہ اللہ عزوجل نے چاہا کہ انہیں ان کی باتوں سے بری الذمہ ثابت کرے۔ ایک دن وہ اکیلے میں گئے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ کر غسل کرنے لگے۔ جب غسل سے فارغ ہوئے تو اپنے کپڑے لینے کے لیے ان کی طرف بڑھے، مگر پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ پڑا۔ موسیٰ نے اپنی لاٹھی پکڑی اور پتھر کے پیچھے بھاگے اور کہنے لگے: اے پتھر! میرا کپڑا، اے پتھر! میرا کپڑا، یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ گئے۔ انہوں نے موسیٰ کو برہنہ حالت میں دیکھا کہ وہ اللہ کی بہترین مخلوق ہیں اور اللہ نے انہیں اس عیب سے پاک ثابت کر دیا جو وہ بیان کرتے تھے۔ پھر پتھر رک گیا تو انہوں نے اپنے کپڑے لے کر پہنے اور اپنی لاٹھی سے پتھر کو مارنے لگے۔ اللہ کی قسم! اس پتھر پر ان کے مارنے کے نشانات اب بھی تین، چار یا پانچ کی تعداد میں موجود ہیں۔ اور اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا﴾ ”اے ایمان والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی، تو اللہ نے انہیں ان باتوں سے بری ثابت کر دیا جو انہوں نے کہی تھیں، اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی عزت والے تھے۔“ [سورة الأحزاب: 69]“