حدیث نمبر: 2238
"إن موسى قال: يا رب أرنا آدم الذي أخرجنا ونفسه من الجنة فأراه الله آدم قال أنت أبونا آدم؟ فقال له آدم: نعم قال أنت الذي نفخ الله فيك من روحه وعلمك الأسماء كلها وأمر الملائكة فسجدوا لك؟ قال: نعم. قال: فما حملك على أن أخرجتنا ونفسك من
الجنة؟ فقال له آدم: ومن أنت؟ قال: أنا موسى. قال: أنت نبي بني إسرائيل الذي كلمك الله من وراء حجاب لم يجعل بينك وبينه رسولا من خلقه؟ قال: نعم. قال: فما وجدت أن ذلك كان في كتاب الله قبل أن أخلق؟ قال: نعم. قال: فبم تلومني في شيء سبق من الله فيه القضاء قبلي؟ فحج آدم موسى فحج آدم موسى"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! ہمیں آدم (علیہ السلام) دکھا دیجیے جنہوں نے اپنے آپ کو اور ہمیں جنت سے نکلوایا۔ تو اللہ نے انہیں آدم (علیہ السلام) دکھا دیے۔ موسیٰ نے پوچھا: کیا آپ ہمارے باپ آدم ہیں؟ تو آدم نے ان سے کہا: جی ہاں۔ موسیٰ نے کہا: کیا آپ وہی ہیں جن میں اللہ نے اپنی روح پھونکی، آپ کو تمام نام سکھائے اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا؟ آدم نے کہا: جی ہاں۔ موسیٰ نے کہا: پھر کس چیز نے آپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ آپ نے ہمیں اور اپنے آپ کو جنت سے نکلوایا؟ اس پر آدم نے ان سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: میں موسیٰ ہوں۔ آدم نے کہا: کیا آپ بنی اسرائیل کے وہ نبی ہیں جن سے اللہ نے پردے کے پیچھے سے کلام کیا اور اپنے اور آپ کے درمیان اپنی مخلوق میں سے کسی کو قاصد نہیں بنایا؟ موسیٰ نے کہا: جی ہاں۔ آدم نے کہا: کیا آپ نے نہیں پایا کہ یہ بات میرے پیدا کیے جانے سے پہلے ہی اللہ کی کتاب میں لکھی ہوئی تھی؟ موسیٰ نے کہا: جی ہاں۔ آدم نے کہا: پھر آپ مجھے اس بات پر کیوں ملامت کرتے ہیں جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ میری پیدائش سے پہلے ہی کر چکا تھا؟ پس آدم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آ گئے، پس آدم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آ گئے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2238
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن عمر. الصحيحة ١٧٠٢، السنة ١٣٧: ابن خزيمة، الآجري.