صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إن رجلا قتل تسعة وتسعين نفسا ثم عرضت له التوبة فسأل عن أعلم أهل الأرض؟ فدل على راهب فأتاه فقال: إنه قتل تسعة وتسعين نفسا فهل له من توبة؟ فقال: لا فقتله فكمل
به مائة ثم سأل عن أعلم أهل الأرض؟ فدل على رجل عالم فقال: إنه قتل مائة نفس فهل له من توبة؟ قال: نعم ومن يحول بينه وبين التوبة؟ انطلق إلى أرض كذا وكذا فإن بها أناسا يعبدون الله فاعبد الله معهم ولا ترجع إلى أرضك فإنها أرض سوء فانطلق حتى إذا نصف الطريق أتاه الموت فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب فقالت ملائكة الرحمة: جاء تائبا مقبلا بقلبه إلى الله تعالى وقالت ملائكة العذاب: إنه لم يعمل خيرا قط فأتاهم ملك في صورة آدمي فجعلوه بينهم فقال: قيسوا بين الأرضين فإلى أيتهما كان أدنى فهو لها فقاسوا فوجدوه أدنى إلى الأرض التي أراد فقبضته ملائكة الرحمة"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بےشک ایک شخص نے ننانوے (99) قتل کیے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا تو اس نے زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا، تو اسے ایک عبادت گزار راہب کی طرف رہنمائی کی گئی। وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، کیا اس کے لیے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ اس نے کہا: نہیں! تو اس نے اسے بھی قتل کر کے سو (100) پورے کر دیے۔ پھر اس نے روئے زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا، تو اسے ایک عالم کی طرف رہنمائی کی گئی، اس نے کہا کہ اس نے سو قتل کیے ہیں، کیا اس کے لیے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ اس نے کہا: ہاں! اور توبہ اور اس کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ تم فلاں فلاں زمین کی طرف چلے جاؤ، کیونکہ وہاں ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تو تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرو اور اپنے شہر واپس نہ لوٹو کیونکہ وہ بری زمین ہے۔ چنانچہ وہ روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ جب وہ آدھے راستے میں پہنچا تو اسے موت آ گئی۔ رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ توبہ کرنے والا آیا ہے، جو اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہے۔ اور عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی۔ اتنے میں ایک فرشتہ انسانی شکل میں ان کے پاس آیا، انہوں نے اسے اپنے درمیان فیصلہ کرنے والا بنا لیا۔ اس نے کہا: دونوں زمینوں کا فاصلہ جس زمین کے زیادہ قریب ہو، وہ اسی کی ہے۔ انہوں نے ناپا تو اسے اس زمین کے قریب پایا جس کا اس نے ارادہ کیا تھا، چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح قبض کر لی۔“