حدیث نمبر: 2055
«إن جبريل لما ركض زمزم بعقبه جعلت أم إسماعيل تجمع البطحاء رحم الله هاجر لو تركتها كانت عينا معينا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک جبریل نے جب زمزم کو اپنی ایڑی سے کھودا تو اسماعیل کی والدہ (حضرت ہاجرہ) مٹی اور ریت سمیٹ کر اسے باندھنے لگیں۔ اللہ حضرت ہاجرہ پر رحم فرمائے! اگر وہ اسے یونہی (باندھے بغیر) چھوڑ دیتیں تو زمزم کا چشمہ ایک بہتا ہوا چشمہ بن جاتا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2055
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عم ن الضياء] عن أبي. الصحيحة ١٦٦٩: حب، ابن شاهين.