حدیث نمبر: 1972
«إن النار أدنيت مني حتى نفخت حرها عن وجهي فرأيت فيها صاحب المحجن والذي بحر البحيرة وصاحب حمير وصاحبة الهرة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک آگ (جہنم) میرے اتنے قریب کر دی گئی کہ میں نے اس کی تپش اپنے چہرے سے دور کرنے کے لیے پھونک ماری، پس میں نے اس میں خمدار لاٹھی والے کو، اس شخص کو جس نے (بتوں کے نام پر) بحیرہ (اونٹنی) کا کان چیرا تھا، حمیریوں کے ساتھی کو، اور بلی والی عورت کو (عذاب میں مبتلا) دیکھا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1972
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن المغيرة. صفة صلاة الكسوف.