صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن أرواح الشهداء في جوف طير خضر لها قناديل معلقة تحت العرش تسرح من الجنة حيث شاءت ثم تأوي إلى تلك القناديل فاطلع إليهم ربهم اطلاعة فقال: هل تشتهون شيئا؟ قالوا: أي شيء نشتهي ونحن نسرح من الجنة حيث شئنا؟ فيفعل ذلك بهم ثلاث مرات فلما رأوا أنهم لم يتركوا من أن يسألوا قالوا: يا رب نريد أن ترد أرواحنا في أجسادنا حتى نرجع إلى الدنيا فنقتل في سبيلك مرة أخرى! فلما رأى أن ليس لهم حاجة تركوا»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شہداء کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹوں میں ہوتی ہیں، ان کے لیے قندیلیں ہوتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹکی ہوئی ہوتی ہیں، وہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں چرتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں واپس آ کر بسیرا کرتی ہیں۔ پس ان کا رب ان پر ایک نظر ڈس ڈالتا ہے اور فرماتا ہے: کیا تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہم کس چیز کی خواہش کریں گے جبکہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں (آزادانہ) گھومتے پھرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ان سے یہ سوال تین مرتبہ دہراتا ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ انہیں (کسی مانگنے کے بغیر) چھوڑا نہیں جائے گا (بلکہ ان سے ضرور پوچھا جائے گا)، تو وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم یہ چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دے تاکہ ہم دنیا میں واپس جائیں اور تیری راہ میں ایک بار پھر شہید کیے جائیں! پس جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ اب انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں ہے (سوائے اس کے کہ وہ دنیا میں جانا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے)، تو انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔“