حدیث نمبر: 1557
"إن أدنى أهل الجنة منزلا رجل صرف الله وجهه عن النار قبل الجنة ومثل له شجرة ذات ظل فقال: أي رب قدمني إلى هذه الشجرة فأكون في ظلها فقال الله: هل عسيت أن تسألني غيره؟ قال: لا وعزتك فقدمه الله إليها ومثل له شجرة ذات ظل وثمر فقال: أي رب قدمني إلى هذه الشجرة فأكون في ظلها وآكل من ثمرها فقال الله: هل عسيت إن أعطيتك ذلك أن تسألني غيره؟ فيقول: لا وعزتك فيقدمه الله إليها فيمثل الله له شجرة أخرى ذات ظل وثمر وماء فيقول: أي رب قدمني إلى هذه الشجرة فأكون في ظلها وآكل من ثمرها وأشرب من مائها فيقول له: هل عسيت إن فعلت أن تسألني
غيره؟ فيقول: لا وعزتك لا أسألك غيره فيقدمه الله إليها فيبرز له باب الجنة فيقول: أي رب قدمني إلى باب الجنة فأكون تحت سجاف الجنة فأرى أهلها فيقدمه الله إليها فيرى الجنة وما فيها فيقول: أي رب أدخلني الجنة فيدخل الجنة فإذا دخل الجنة قال: هذا لي؟ فيقول الله له: تمن فيتمنى ويذكره الله عز وجل سل من كذا وكذا حتى إذا انقطعت به الأماني قال الله: هو لك وعشرة أمثاله ثم يدخله الله الجنة فيدخل عليه زوجتاه من الحور العين فيقولان: الحمد لله الذي أحياك لنا وأحيانا لك فيقول: ما أعطي أحد مثل ما أعطيت وأدنى أهل النار عذابا ينعل من نار بنعلين يغلي دماغه من حرارة نعليه"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جنت میں ادنیٰ درجے کی منزل والا وہ شخص ہو گا جس کا رخ اللہ تعالیٰ آگ کی طرف سے پھیر کر جنت کی طرف کر دے گا، اور اس کے سامنے ایک سایہ دار درخت ظاہر کیا جائے گا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں رہوں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا عجب ہے کہ اگر میں تمہیں یہ دے دوں تو تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگو؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! پس اللہ تعالیٰ اسے اس کے قریب کر دے گا، اور اس کے سامنے ایک اور سایہ دار اور پھل والا درخت ظاہر کیا جائے گا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں رہوں اور اس کے پھل کھاؤں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا عجب ہے کہ اگر میں تمہیں یہ عطا کر دوں تو تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگو؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! پس اللہ تعالیٰ اسے اس کے قریب کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ایک اور درخت ظاہر کرے گا جو سایہ دار، پھل والا اور پانی (کے چشمے) والا ہو گا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں رہوں، اس کے پھل کھاؤں اور اس کا پانی پیوں۔ تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا عجب ہے کہ اگر میں ایسا کر دوں تو تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگو؟ تو وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں تجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا۔ پس اللہ تعالیٰ اسے اس کے قریب کر دے گا، پھر اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جائے گا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے تاکہ میں جنت کے پردے کے نیچے رہوں اور اس کے رہنے والوں کو دیکھوں۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے قریب کر دے گا، پس وہ جنت کو اور اس کی نعمتوں کو دیکھے گا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ پس اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اور جب وہ جنت میں داخل ہو گا تو کہے گا: کیا یہ سب کچھ میرے لیے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تم تمنا کرو (جو مانگنا چاہو مانگو)۔ پس وہ تمنا کرے گا اور اللہ عزوجل اسے یاد دلائے گا کہ تم فلاں فلاں چیز کا بھی سوال کرو، یہاں تک کہ جب اس کی ساری تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ سب کچھ تمہاری ملکیت ہے اور اس جیسے دس گنا مزید بھی۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے جنت کے محل میں داخل کرے گا، تو اس کے پاس حورِ عین میں سے اس کی دونوں بیویاں آئیں گی اور کہین گی: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہیں ہمارے لیے زندہ کیا اور ہمیں تمہارے لیے زندہ کیا۔ تو وہ کہے گا: آج کسی کو بھی اتنا کچھ نہیں دیا گیا جتنا مجھے عطا کیا گیا ہے۔ اور دوزخ میں سب سے ہلکا عذاب پانے والا وہ شخص ہو گا جسے آگ کے دو جوتے پہنا دیے جائیں گے جن کی حرارت سے اس کا دماغ اس طرح کھول رہا ہوگا جیسے ہنڈیا کھولتی ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1557
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي سعيد. حم ٣/٢٧، م ١/١٢٠, ١٣٥.