حدیث نمبر: 1543
«إن أحدكم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما نطفة ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم يبعث الله إليه ملكا ويؤمر بأربع كلمات ويقال له: اكتب عمله ورزقه وأجله وشقي أو سعيد ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل منكم ليعمل بعمل أهل الجنة حتى لا يكون بينه وبينها إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل النار فيدخل النار وإن الرجل ليعمل بعمل أهل النار حتى ما يكون بينه وبينها إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل الجنة فيدخل الجنة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں جمع کی جاتی ہے، پھر اتنے ہی دن وہ جما ہوا خون (علقہ) رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ گوشت کا لوتھڑا (مضغہ) رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے جسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ: اس کا عمل، اس کا رزق، اس کی موت کا وقت (عمر) اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھ دو، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پس بلاشبہ تم میں سے ایک آدمی اہل جنت والے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو اس پر اس کی تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل دوزخ والے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور بلاشبہ ایک آدمی اہل دوزخ والے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جنت والے عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1543
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن ابن مسعود.