حدیث نمبر: 1526
"إن إبليس يضع عرشه على الماء ثم يبعث سراياه فأدناهم منه منزلة أعظمهم فتنة يجيء أحدهم فيقول: فعلت كذا وكذا فيقول: ما صنعت شيئا، ويجيء أحدهم فيقول: ما تركته حتى فرقت بينه
وبين أهله فيدنيه منه ويقول: نعم أنت! "
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے، ان میں سے اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ پرور ہو۔ ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے یہ اور یہ کام کیا، تو ابلیس کہتا ہے: تو نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ان میں سے ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈال دی۔ تب ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: ہاں، تو نے (بہت اچھا کام کیا) ہے!۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1526
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن جابر. مختصر مسلم ١٩٩١.