977/1287 (صحيح) عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إياكم والظن؛ فإن الظن أكذب الحديث، ولا تجسسوا، ولا تنافسوا، ولا تدابروا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، وكونوا- عباد الله – إخوانا".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، اور جاسوسی نہ کرو، ایک دوسرے سے (دنیا میں) مقابلہ بازی نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“
978/1288 (صحيح) عن أنس قال: بينما النبي صلى الله عليه وسلم مع امرأة من نسائه، إذ مرّ به رجل، فدعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا فلان[إن] هذه زوجتي فلانة"! قال: من كنت أظن به فلم أكن أظن بك، قال: " إن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے ایک خاتون کے ساتھ تھے کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”اے فلاں! یہ میری بیوی فلاں ہے۔“ اس نے کہا: جس کسی کے بارے میں میں (برا) گمان کر سکتا تھا، آپ کے بارے میں تو میں (ایسا) گمان نہیں کر سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک شیطان ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔“
979/1289 (صحيح الإسناد) عن عبد الله (1) قال: " ما يزال المسروق منه يتظنى(2) حتى يصير أعظم من السارق".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جس کی چوری ہوئی ہو وہ (لوگوں کے بارے میں) بدگمانی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ (گناہ میں) چور سے بھی بڑھ جاتا ہے۔“