❮
❯
888/1161 (صحيح الإسناد) عن أبي العالية قال: "جلست مع ابن عباس على سرير". وفي رواية عن أبي جمرة، قال: كنت أقعد مع ابن عباس، فكان يقعدني على سريره، فقال لي: " أقم عندي حتى أجعل لك سهماً من مالي". فأقمت عنده شهرين.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابوالعالیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک تخت پر بیٹھا ۔“ اور ابوجمرہ سے ایک روایت میں ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا، وہ مجھے اپنے تخت پر بٹھاتے تھے، (ایک دن) انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”میرے پاس ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ میں تمہارے لیے اپنے مال میں سے ایک حصہ مقرر کر دوں ۔“ چنانچہ میں ان کے پاس دو مہینے ٹھہرا رہا۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 888
889/1162 (حسن الإسناد) عن خالد بن دينار أبي خلدة قال: سمعت أنس بن مالك- وهو مع الحكم أمير بالبصرة على السرير- يقول: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا كان الحر أبرد بالصلاة، وإذا كان البرد بكّر بالصلاة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
خالد بن دینار ابوخلدہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو — جبکہ وہ بصرہ کے امیر حکم کے ساتھ تخت پر تھے — فرماتے ہوئے سنا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گرمی ہوتی تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھتے، اور جب سردی ہوتی تو نماز جلدی پڑھتے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 889
890/1163 (حسن صحيح) عن أنس بن مالك قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو على سرير مرمول بشريط تحت رأسه وسادةٌ من أدم حشوها ليف، ما بين جلده وبين السرير ثوب، فدخل عليه عمرٌ فبكى، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : "ما يبكيك يا عمر؟ "قال: أما والله ما أبكي يا رسول الله ألا أكون أعلم أنك أكرم على الله من كسرى وقيصر، فهما يعيثان فيما يعيثان فيه من الدنيا، وأنت يا رسول الله بالمكان الذي أرى! فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " أما ترضى يا عمر أن تكون لهم الدنيا، ولنا الآخرة؟". قلت: بلى يا رسول الله، قال: "فإنه كذلك".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا جبکہ آپ ایک چارپائی پر تھے جو کھجور کی رسی سے بُنی ہوئی تھی، آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، آپ کی جلد اور چارپائی کے درمیان کوئی کپڑا نہ تھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے تو رو پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ”اے عمر! تمہیں کس چیز نے رلایا؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں اس لیے نہیں روتا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہو کہ آپ اللہ کے نزدیک کسریٰ اور قیصر سے زیادہ معزز ہیں، (لیکن) وہ دونوں دنیا کی جن (نعمتوں) میں ہیں ان میں مزے اڑا رہے ہیں، اور آپ، اے اللہ کے رسول! اس حال میں ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے عمر! کیا تم اس پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو بات ایسے ہی ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 890
891/1164 (صحيح) عن أبي رفاعة العدوي قال: انتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب، فقلت: يا رسول الله! رجل غريب جاء يسأل عن دينه، لا يدري ما دينه؟ فأقبل إلي وترك خطبته. فأتي بكرسي خلت قوائمه حديداً، - قال حميد: أراه خشباً أسود حسبه حديداً- فقعد عليه، فجعل يعلمني مما عمله الله، ثم أتم خطبته؛ آخرها(1).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابورفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا جبکہ آپ خطبہ دے رہے تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایک اجنبی آدمی اپنے دین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے، اسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے؟ تو آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑ دیا، پھر ایک کرسی لائی گئی، میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے — حمید نے کہا: میرا خیال ہے کہ وہ سیاہ لکڑی تھی جسے انہوں نے لوہا سمجھا — آپ اس پر بیٹھ گئے اور مجھے اس (علم) میں سے سکھانے لگے جو اللہ نے آپ کو سکھایا تھا، پھر آپ نے اپنا خطبہ اس کے آخر تک مکمل فرمایا۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 891
892/1165م (حسن الإسناد) عن عمران بن مسلم قال: "رأيت أنساً جالساً على سرير، واضعاً إحدى رجليه على الأخرى".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عمران بن مسلم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو ایک تخت پر بیٹھے دیکھا، انہوں نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا تھا ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 892