890/1163 (حسن صحيح) عن أنس بن مالك قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو على سرير مرمول بشريط تحت رأسه وسادةٌ من أدم حشوها ليف، ما بين جلده وبين السرير ثوب، فدخل عليه عمرٌ فبكى، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : "ما يبكيك يا عمر؟ "قال: أما والله ما أبكي يا رسول الله ألا أكون أعلم أنك أكرم على الله من كسرى وقيصر، فهما يعيثان فيما يعيثان فيه من الدنيا، وأنت يا رسول الله بالمكان الذي أرى! فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " أما ترضى يا عمر أن تكون لهم الدنيا، ولنا الآخرة؟". قلت: بلى يا رسول الله، قال: "فإنه كذلك".سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا جبکہ آپ ایک چارپائی پر تھے جو کھجور کی رسی سے بُنی ہوئی تھی، آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، آپ کی جلد اور چارپائی کے درمیان کوئی کپڑا نہ تھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے تو رو پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ”اے عمر! تمہیں کس چیز نے رلایا؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں اس لیے نہیں روتا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہو کہ آپ اللہ کے نزدیک کسریٰ اور قیصر سے زیادہ معزز ہیں، (لیکن) وہ دونوں دنیا کی جن (نعمتوں) میں ہیں ان میں مزے اڑا رہے ہیں، اور آپ، اے اللہ کے رسول! اس حال میں ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے عمر! کیا تم اس پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو بات ایسے ہی ہے ۔“