893/1166 (صحيح الإسناد) عن سعيد المقبري قال: مررت على ابن عمر ومعه رجل يتحدّث، فقمت إليهما، فلطم في صدري، فقال (1) : "إذا وجدت اثنين يتحدثان فلا تقم معهما، ولا تجلس معهما، حتى تستأذنهما ". فقلت: أصلحك الله يا أبا عبد الرحمن! إنما رجوت أن أسمع منكما خيراً.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سعید مقبری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا، ان کے ساتھ ایک آدمی باتیں کر رہا تھا، میں ان دونوں کے پاس جا کھڑا ہوا تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”جب تم دو آدمیوں کو باتیں کرتے پاؤ تو ان کے ساتھ نہ کھڑے ہو اور نہ ان کے ساتھ بیٹھو یہاں تک کہ ان سے اجازت لے لو ۔“ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! اللہ آپ کا بھلا کرے، میں تو یہ امید رکھتا تھا کہ آپ دونوں سے کوئی بھلی بات سنوں گا۔
894/1167 (صحيح الإسناد موقوفاً، وقد صحّ مرفوعاً) عن ابن عباس قال: "من تسمع إلى حديث قوم وهم له كارهون، صب في أذنه الآنك، ومن تحلم بحلم كلف أن يعقد شعيرة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جس نے کچھ لوگوں کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں، اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا، اور جس نے جھوٹا خواب بیان کیا اسے مکلف کیا جائے گا کہ جَو کے دانے میں گرہ لگائے ۔“