❮
❯
880/1149 (صحيح) عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المجالس بالصعدات، فقالوا: يا رسول الله! ليشق علينا الجلوس في بيوتنا؟ قال: "فإن جلستم، فأعطوا المجالس حقها" قالوا: وما حقها يا رسول الله؟ قال: "إدلال السائل، ورد السلام، وغض الأبصار، والأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راستوں (اور کھلے میدانوں) میں مجلسیں لگانے سے منع فرمایا، تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے اپنے گھروں میں (ہی) بیٹھنا دشوار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تم (وہاں) بیٹھو ہی تو مجلسوں کا حق ادا کرو ۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”(راستہ) پوچھنے والے کی رہنمائی کرنا، سلام کا جواب دینا، نگاہیں نیچی رکھنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 880
881/1150 (صحيح) عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إياكم والجلوس في الطرقات" قالوا: يا رسول الله! ما لنا بد من مجالسنا؛ نتحدث فيها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أما إذ أبيتم، فأعطوا الطريق حقه". قالوا: وما حق الطريق يا رسول الله؟ قال: "غض البصر، وكف الأذى والأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”راستوں میں بیٹھنے سے بچو ۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اپنی ان مجلسوں کے بغیر چارہ نہیں، ہم ان میں باتیں کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم (بیٹھنے پر) اصرار کرتے ہو تو راستے کا حق ادا کرو ۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نگاہ نیچی رکھنا، تکلیف دینے سے رکنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 881