❮
❯
حدیث نمبر: 879
879/1148 (حسن) عن الحارث بن عمرو السهمي قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو بمنى – أو بعرفات- وقد أطاف به الناس، ويجيء الأعراب، فإذا رأوا وجهه، قالوا: هذا وجه مبارك، قلت: يا رسول الله! استغفر لي، فقال: " اللهم اغفر لنا". فدرتُ، فقلت: استغفر لي، قال: "اللهم اغفر لنا". فدرت، فقلت: استغفر لي، فقال: "اللهم اغفر لنا". فذهب [يبزق، فقال])(1) بيده [فأخذ بها](1)بزاقه، ومسح بها نعله، كره أن يصيب أحداً من حوله.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ منیٰ میں — یا عرفات میں — تھے، اور لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا، اور دیہاتی آتے، جب وہ آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے: یہ مبارک چہرہ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم اغفر لنا» ”اے اللہ! ہمیں بخش دے ۔“ میں گھوم کر (دوسری طرف) آیا اور کہا: میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔ آپ نے فرمایا : «اللهم اغفر لنا» ”اے اللہ! ہمیں بخش دے ۔“ میں پھر گھوم کر آیا اور کہا: میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے، آپ نے فرمایا : «اللهم اغفر لنا» ”اے اللہ! ہمیں بخش دے ۔“ پھر آپ تھوکنے لگے تو آپ نے اپنے ہاتھ سے (اشارہ) کیا اور اس میں اپنا تھوک لے لیا اور اسے اپنے جوتے سے پونچھ دیا، آپ نے ناپسند کیا کہ وہ آپ کے اردگرد کسی کو لگ جائے۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 879