865/1131 (حسن الإسناد إلا الزيادة فصحيحة الإسناد) عن أبي الزناد أنه أخذ هذه الرسالة من خارجة بن زيد ومن كبراء آل زيد: " بسم الله الرحمن الرحيم لعبد الله؛ معاوية أمير المؤمنين، من زيد بن ثابت، سلام عليك أمير المؤمنين ورحمة الله ؛ فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو. أما بعد: فإنك تسألني عن ميراث الجد والإخوة… فذكر الرسالة(1). ونسأل الله الهدى والحفظ والتثبت في أمرنا كله، ونعوذ بالله أن نضل، أو نجهل، أو نكلف ما ليس لنا بعلم، والسلام عليك أمير المؤمنين ورحمة الله وبركاته ومغفرته[وطيب صلواته/1001]".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابوالزناد سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ خط خارجہ بن زید اور (سیدنا) زید (بن ثابت رضی اللہ عنہ) کے خاندان کے بڑوں سے لیا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کے بندے معاویہ امیر المومنین کی طرف، زید بن ثابت کی طرف سے: اے امیر المومنین! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، میں آپ کے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اما بعد: آپ نے مجھ سے دادا اور بھائیوں کی میراث کے بارے میں پوچھا ہے“ پھر (راوی نے) پورا خط ذکر کیا (اور اس کے آخر میں تھا:) ”اور ہم اللہ سے اپنے تمام معاملات میں ہدایت، حفاظت اور ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں، اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ ہم گمراہ ہو جائیں، یا جہالت میں پڑیں، یا ایسی بات کا تکلف کریں جس کا ہمیں علم نہیں۔ اور اے امیر المومنین! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت، اس کی برکتیں اور اس کی مغفرت (اور اس کی پاکیزہ رحمتیں) ۔“
وكتب وهب: يوم الخميس لثنتي عشرة بقيت من رمضان سنة اثنين وأربعين".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
اور وہب نے (خط کے آخر میں) لکھا: جمعرات کے دن، جب رمضان کی بارہ راتیں باقی تھیں، سن بیالیس (ہجری) میں۔