❮
❯
863/1129 (صحيح) عن محمود بن لبيد قال: لما أصيب أكحل سعد يوم الخندق فثقل، حوّلوه عند امرأة، يقال لها: رفيدة، وكانت تداوي الجرحى. فكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا مر به، يقول: "كيف أمسيت؟ "، وإذا أصبح : "كيف أصبحت؟"، فيخبره.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب غزوہ خندق کے دن سیدنا سعد (بن معاذ) رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ (اکحل) زخمی ہو گئی اور ان کی حالت بگڑ گئی تو لوگوں نے انہیں ایک عورت کے پاس منتقل کر دیا جسے رفیدہ کہا جاتا تھا، وہ زخمیوں کا علاج کیا کرتی تھی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کو ان کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: ”تم نے شام کیسے کی؟“ اور جب صبح ہوتی تو فرماتے: ”تم نے صبح کیسے کی؟“ تو وہ آپ کو (اپنا حال) بتا دیتے۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 863
864/1130 (صحيح) عن ابن عباس: أن علي بن أبي طالب رضي الله عنه خرج من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في وجعه الذي توفي فيه فقال الناس: يا أبا الحسن! كيف أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: "أصبح بحمد الله بارئاً". قال: فأخذ عباس بن عبد المطلب بيده، فقال: أرأيتك؟ فأنت والله بعد ثلاث عبد العصا، وإني والله لأرى رسول الله صلى الله عليه وسلم سوف يتوفى في مرضه هذا؛ إني أعرف وجوه بني عبد المطلب عند الموت، فاذهب بنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلنسأله فيمن هذا الأمر؟ فإن كان فينا علمنا ذلك، وإن كان في غيرنا كلمناه(1). فأوصى بنا.فقال علي: إنا والله، إن سألناه فمنعناها، لا يعطيناها الناس بعده أبداً، وإني والله لا اسألها رسول الله صلى الله عليه وسلم أبداً.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس بیماری کے دوران نکلے جس میں آپ کی وفات ہوئی، تو لوگوں نے کہا: اے ابوالحسن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کیسے کی؟ انہوں نے کہا: ”الحمدللہ، آپ نے صبح اس حال میں کی کہ آپ صحت یاب ہو رہے ہیں ۔“ راوی نے کہا: تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا: کیا تم دیکھتے نہیں؟ اللہ کی قسم! تم تین دن کے بعد لاٹھی کے غلام (یعنی دوسروں کے ماتحت) ہو گے، اور اللہ کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں وفات پا جائیں گے، میں موت کے وقت بنو عبدالمطلب کے چہروں کو پہچانتا ہوں، لہٰذا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو تاکہ ہم آپ سے پوچھ لیں کہ یہ امر (خلافت) کن لوگوں میں ہو گا؟ اگر ہم میں ہوا تو ہمیں اس کا علم ہو جائے گا، اور اگر ہمارے علاوہ دوسروں میں ہوا تو ہم آپ سے بات کریں گے اور آپ ہمارے بارے میں (انہیں) وصیت فرما دیں گے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے آپ سے اس کا سوال کیا اور آپ نے ہمیں اس سے روک دیا تو لوگ آپ کے بعد ہمیں یہ کبھی نہیں دیں گے، اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی اس کا سوال نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 864