834/1090 (صحيح الإسناد) عن مسلم بن نذير قال: استأذن رجل على حذيفة، فاطّلع، وقال: أدخل؟ قال حذيفة: "أما عينك فقد دخلت، وأما إستك فلم تدخل".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
مسلم بن نذیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کی، اس نے (اندر) جھانکا اور کہا: کیا میں اندر آ جاؤں ؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”تمہاری آنکھ تو داخل ہو چکی، البتہ تمہاری سرین داخل نہیں ہوئی ۔“
835/1093 (صحيح دون جملة الإمامة) عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا يحل لامرئ مسلم أن ينظر إلى جوف بيت حتى يستأذن؛ فإن فعل فقد دخل. ولا يؤم قوماً فيخصّ نفسه بدعوة دونهم حتى ينصرف(1). ولا يصلي وهو حاقن حتى يتخفف". قال أبو عبد الله: أصح ما يروى في هذا الباب هذا الحديث.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی گھر کے اندر نظر ڈالے یہاں تک کہ اجازت لے لے، اگر اس نے ایسا کیا تو گویا وہ داخل ہو گیا۔ اور نہ وہ کسی قوم کی امامت کرے کہ انہیں چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے یہاں تک کہ (نماز سے) فارغ ہو جائے۔ اور نہ اس حال میں نماز پڑھے کہ وہ پیشاب روکے ہوئے ہو یہاں تک کہ (قضائے حاجت کر کے) ہلکا ہو جائے ۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری) نے کہا: اس باب میں جو کچھ روایت کیا جاتا ہے اس میں سب سے صحیح یہی حدیث ہے ۔