❮
❯
حدیث نمبر: 759
759/984- (حسن) عن ابن عمر: أن الأغر- وهو رجل من مزينة، وكانت له صحبة مع النبي صلى الله عليه وسلم – كانت له أوسق من تمر على رجل من بني عمرو بن عوف، اختلف إليه مراراً، قال: فجئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأرسل معي أبا بكر الصديق، قال: فكل من لقينا سلموا علينا، فقال أبو بكر: "ألا ترى الناس يبدؤونك بالسلام، فيكون لهم الأجر؟ ابدأهم بالسلام يكن لك الأجر". يحدث هذا ابن عمر عن نفسه.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اغر رضی اللہ عنہ — جو قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی تھے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی — کی بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی کے ذمے کئی وسق کھجوریں تھیں، وہ کئی بار اس کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا: تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے میرے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ انہوں نے کہا: ہمیں جو بھی ملتا وہ ہمیں سلام کرتا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوگ تم سے سلام میں پہل کرتے ہیں اور اجر انہیں مل جاتا ہے؟ تم ان سے سلام میں پہل کرو، اجر تمہیں ملے گا۔“ ابن عمر یہ بات (اغر کی زبانی) خود ان کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 759